Home Blog

اگر کسی نے گلگت بلتستان کی حیثیت کو چھیڑا تو وہ نریندر مودی کے برابرتصور کیا جائیگا۔ سردار عتیق

0
Sardar Attique Adressing to MC Convention

مجھے یقین ہے وزیراعظم عمران خان نوازشریف اورآصف زرداری کے نہیں بلکہ قائد اعظم کے نقشے قدم پر چلیں گے۔ سردارعتیق احمد خان

حکومت پاکستان آزادکشمیر کی داخلی خودمختاری میں اضافہ، گلگت بلتستان کی حیثیت کو چھیڑے بغیراس کے مسائل حل کرے۔ دھیرکوٹ میں کنونشن سے خطاب

مظفرآباد (کے این این) آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کا علاقہ پاکستان کا دفاعی حصار اورمقبوضہ کشمیر کا بیس کیمپ ہے لھذا اس خطے کی حیثیت کوچھیڑے بغیراس میں تعمیر وترقی اور اس کے مسائل حل کیئے جائیں۔ ان خیالات کا اظہارسابق وزیراعظم و قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے دھیرکوٹ میں کشمیر بنیگا پاکستان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ کہ آج کا کنونشن اسکیمیں دینے اور پیسے بانٹنے کیلئے نہیں بلکہ ایک نظریاتی و فکری بات کرنے کیلئے، مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کیساتھ اظہاریکجہتی کیلئے، مسلح افواج سےہمقدم ہونے کیلئے اور پاکستان کے خلاف ہونے والی تحزیب کاری کو روکنے کیلئے منعقد کیا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے تشخص سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کشمیر کی حیثیت کوچھِیڑے تاکہ ہمارا کیس کمزور ہو۔ اسی ضمن میں پہلے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں گلگت اورآزادکشمیر کو صوبہ بنانے کی کوشش کی گئی، دوسرا حملہ بھی آصف علی زرداری نے کیا اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش کی مگر ہم نے کہا کہ یہ تقسیم کشمیر کے اندر ہے اوراس سے ہندوستان کو موقع مل جائے گا پھر ن لیگ دور میں بھی اسے صوبہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

مکمل تقریراس ویڈیو لنک میں دیکھئے

میثاق جمہوریت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت سے جہاں اٹھارویں ترمیم کر ذریعے پاکستان کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی، جہاں افواج پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار کا راستہ ہموار کیا، جہاں مذہبی و سیاسی، قومی و لسانی فسادات کو تقویت دی، جہاں پاکستان میں دھشت گردی کو فروغ دیا وہیں آزادکشمیر میں نظریہ الحاق پاکستان والی سوچ مسلم کانفرنس کو جو کہ غیرمشروط طور پر پاکستان سے وابستہ تھی کمزور کردیاگیا لیکن گلگت بلتستان کوصوبہ نہیں بناسکے۔

وزیراعظم عمران خان کے نام اپنے پیغام میں انکا کہنا تھا کہ عمران خان کو ذولفقارعلی بھٹو، آصف زرداری، نوازشریف یا قائداعظم میں سے کسی ایک شخصیت کاانتخاب کرتے ہوئے اسکے راستے پرچلنا ہوگا۔ سردارعتیق احمد خان نے کہا کہ اںہیں یقین ہے کہ عمران خان قائد اعظم کے راستے پرچلیں گے۔

قائد مسلم کانفرنس نے کہا کہ اگرہندوستان اورپاکستان کی جنگ ہوگئی تو کشمیر کے پہاڑہندوستانی افواج کا قبرستان ثابت ہونگے۔ مسلم کانفرنس کامیابی کے راستے پرگامزن ہوچکی ہےاور بہت جلد مجاہداول والی مسلم کانفرنس دوبارہ بحال ہوگی، ہم نے غیرمشروط طور پر کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگایا اورآج بھی اس پر پہرہ دے رہے ہیں۔ ملکی سالمیت کیلئے مضبوط معیشت نہیں بلکہ جانداردفاع لازم ہے کیونکہ مضبوط دفاع بنیاد اورمعیشت وجمہوریت ایک ڈیکوریشن کی طرح ہیں اورہمیں پاکستان کے دفاع کومضبوط سے مضبوط دیکھنا ہے۔

اس سے قبل چیئرمین مسلم کانفرنس یوتھ ونگ سردارعثمان علی خان نے بھی اپنی جذباتی تقریر میں حکومت پاکستان پرزور دیا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو نا چھیڑا جائے اگر یہ پاکستان کے مفاد میں ہے تو6 لاکھ کشمیریوں نے بھی اسی مقصد کیخاطرقربانیاں دی ہیں اور اگر ایسا کیا گیا تویہ ہندوستان کوبیل آئوٹ دینے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مسلم کانفرنس آزادکشمیر بھرمیں کشمیر بنے گا پاکستان کنونشنز کا اہتمام کرے گی۔

یادرہے، مسلم کانفرنس نے اس سے قبل لائن آف کنٹرول کے قریب نیلم ویلی میں بھی کشمیر بنے گا پاکستان کنونشن کا انعقاد کیا تھا۔ کنونشن سے پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل کرنل (ر) نسیم راجہ اورجنرل (ر) اسلم طاہر اورصدرمسلم کانفرنس مرزاشفیق جرال سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔ مسلم کانفرنس اپنا اگلا پڑائو15 اکتوبر کوباغ میں ڈالے گی جس کے بعد راولاکوٹ اورمظفرآباد میں بھی کنونشنز کاانعقاد کیا جائیگا۔

Woman In Pakistan

0
Woman In Pakistan

In Pakistan, according to the report presented by the HRCP, a woman is being raped every two hours. The study also shows that about 70 to 90 percent of female are facing some type of domestic violence. This percentage is increasing day by day. There is no doubt in the fact that a rapist must be punished relentlessly. However, the punishment should also be given to the sellers, abusers, haters, and harassers of the women.

Along with the cases of rape, honor killing is also increasing in Pakistan. Retribution must also be given to the persons responsible for increasing this cheap and bigoted thinking. The sexual content must be removed from every website.

There is a need to make such policies that could help the women reporting these cases fearlessly. Confidence and support must be given to the girls so that they can stand against any kind of abuse they face. The government should take proper steps to stop the trends permeating in our society. It must also be taken into account that not every man is the same. However, one dirty fish spoils the whole pond.

Therefore, the immediate steps must be taken to stop this rapidly increasing abuse against women. Along with women, men should also raise their voices to protect their mothers, sisters, wives, and daughters.

Don’t say anything if you are a female

Just wait till auction for your sale

Don’t stop the men from rape

Just face the abuse and hate

Don’t dare to file a case

Just seal your mouth with a tape

Don’t try to hide your grace

Just let the men praise

Don’t aim to fly from the cage

Just let the men remove your trace

Areesha Khan is a young writer, student and social activist. She blogs @ Areesha Khan Blog.

Sahibzada Sultan Ahmed Ali among top 10 influential Muslims, Inspad announced

0
INSPAD News

Islamabad (KNN) International think tank INSPAD nominates Sahibzada Sultan Ahmed Ali among top 10 Muslim influential figures.

The Institute of Peace & Development (INSPAD) on Sunday placed Chairman Muslim Institute among the world’s top ten most influential Muslim figures.

The think tank which simultaneously operates from Pakistan and Belgium, has announced 25th Annual awards 2020. The 21 members awards nomination jury headed by Mrs. Kishwar Aqeel nominated top 10 muslim personalities including Turkey’s first women Emine Erdogan, Eminent scholar and former Prime Minister of Malaysia Mahathir Muhammad, Queen of Bahrain Shaikha Noora Al Khalifa, Secretary General Muslim League Muhammad Bin AbdulKarim Al Issa, spiritual leader Syedna Mufaddal Saifuddin, Member of US council Ilhan Omar, Member house of Lords UK Lord Nazir Ahmed, Dr. Salim Al Malik from Morroco, Dr. Ibrahim Bin Saleh Al-Naimi from Qatar and Chairman think tank Muslim Institute Sahibzada Sultan Ahmed Ali from Pakistan for their services in different fields.

Read More: KASHMIR: Peace route of South Asia

INSPAD’s President Dr. Sardar Muhammad Tahir Tabassum told to KNN that these personalities was chosen for their tremendous services in the fields of social development with a focus on the environment, culture, arts and social awareness.

The body, which has 5,000 ambassadors of peace and over 12,000 members from different countries, every year selects eminent Muslim figures around the globe and recently announced first list of life time achievement awards as well.

نوشہرہ پولیس کی بڑی کاروائی، کار لفٹر گروہ کے کارندے گرفتار

0
Nowshera police arrest 2 car thieves

نوشہرہ (کے این این) تھانہ نوشہرہ کینٹ پولیس کی کامیاب کاروائی۔ 02 رُکنی کار لفٹرگروہ گرفتار۔نوشہرہ کے مختلف مقامات سے چوری شدہ 05 گاڑیاں برآمد۔ملزمان خیبر پختونخواہ کے علاوہ پنجاب کے وارداوتوں میں ملوث ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، بلال احمد ASP کینٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سردار ولی ساکن روالپنڈی حال حکیم آبادنے پولیس کو رپورٹ درج کی۔ اُس نے حکیم آبادمیں اپنے گھر کے سامنے موٹر کار نمبری 8348/LOU کھڑی کی۔جب واپس آکر دیکھا تو نامعلوم چور موٹر کار کو چوری کرکے لے گئے تھے۔ جس پر فوری طور پر مقدمہ نمبر 644 مورخہ 30-08-2020 جرم 381A/34 تھانہ نوشہرہ کینٹ درج کرکے تفتیش اور موٹر کار کی تلاش شروع کر دی گئی۔

واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نجم الحسنین نے ASPکینٹ بلال احمد کی سربراہی میں انسپکٹرشفیع اللہ اور سیف اللہ SI پرمشتمل تفتیشی ٹیم تشکیل دے کر جلد از جلد ملزمان کی گرفتاری اورمال مسروقہ کی برآمدگی کا ٹاسک حوالہ کیا۔

تفتیشی ٹیم نے مختلف جگہوں سے CCTVفوٹیج حاصل کی۔جس سے پتہ چلا کہ موٹر کار کو نوشہرہ سے باہر جاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ہے۔جس کا مطلب یہی تھا کہ موٹر کا ر اسی ضلع میں موجود ہے جس پر تفتیشی ٹیم مزید متحرک ہوئی۔

انتھک محنت اور کوشش کی بدولت ملزمان تک رسائی حاصل کرلی گئی۔ملزمان احمد یار ولد خیوہ خان اور میر زمان عرف پیر ولد بدیغ الزمان ساکنا ن خویشگی بالا کو گرفتار کر لیا گیا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے سب اُگل دیا۔نوشہرہ کے علاوہ خیبر پختونخواہ کے دیگر اضلاع اور پنجاب کو بھی متعدد وارداتوں میں مطلوب ہیں۔

ملزمان کی نشان دہی پر نوشہرہ کے مختلف علاقوں سے چوری شدہ 03موٹر کاریں اور 02کیری ڈبے برآمد کرلئے گئے۔

وزیراعظم عمران خان کا کراچی کیلئے تاریخی پیکج کا اعلان

0
PM Imran Khan announces historic package for Karachi

کراچی (کے این این) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کراچی کیلئے تاریخی 1100ارب روپے کے بحالی پیکج کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان وزیراعظم نے آج دورہ کراچی کے موقع پر کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی قائم کردی ہے، کمیٹی تین سالوں میں نالوں کی صفائی،صاف پانی، سیوریج سسٹم ،سالڈ ویسٹ، ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور بی آرٹی کی لائنز کے مسائل کو حل کرے گی،یہ تمام کام اسی پیکج میں کیے جائیں گے، پیکج وفاق اور سندھ نے ملکر دیا ہے۔
انہو ں نے وزیراعلیٰ سندھ اورگورنر سندھ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے تمام مسائل کے حل کیلئے پی سی آئی سی کمیٹی قائم کی ہے۔اس میں سب اسٹیک ہولڈرزشامل ہوں گے،فوج کا بڑا کردار ہے،دنیا میں جتنے بھی سیلاب آتے ہیں، اس میں فوج بڑھ چڑھ کر کامکرتی ہے، کیونکہ فوج منظم ادارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کیلئے تاریخی پیکج 1100ارب کا لے کر آئے ہیں، اس میں وفاق اور صوبہ ملکر فنڈ دے رہا ہے۔

کراچی میں پانی کا مسئلہ حل کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ کراچی میں اگلے تین سالوں میں پانی کا مسئلہ حل ہوجائے، نالوں کا مسئلہ ہے، این ڈی ایم اے نالے صاف کرے گی۔ سیوریج سسٹم کراچی کا بڑا مسئلہ ہے، اسی طرح سالڈ ویسٹ بھی بڑا ایشو ہے، گیارہ سو ارب کے پیکج سے اس کو بھی ٹھیک کریں گے، کراچی کے ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور بی آرٹی کی لائنز کو بھی اسی پیکج سے ٹھیک کریں گے۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کا باغ میں بڑا پاورشو، راجہ عبدالقدیرکی وطن واپسی نے مخالفین کی نیندیں اڑی لیں

کراچی کے لوگوں کو بڑے مشکل حالات سے گزرنا پڑا ہے،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کراچی کے تمام مسائل کا حل اس کمیٹی کے ذریعے کریں گے۔ کراچی میں وفاق اور صوبائی حکومت کے ادارے تھے، یہ رکاوٹیں تھیں،لیکن اب وفاق، صوبہ اور ملٹری سب ملکر کراچی کیلئے کام کریں گے۔ اب کراچی کے تمام زیرالتواء مسئلے بھی حل ہوجائیں گے۔ اسی طرح کراچی میں سیلاب سے لوگ بڑے متاثر ہوئے ہیں، ہم بیٹھ کر تیاری کررہے ہیں کہ کس طرح سندھ، بلوچستان، گلگت، چترال اور کے پی میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ریلیف دیں ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کیخلاف سب نے ملکر کام کیا، اسی طرح کراچی کیلئے بھی شارٹ ، لانگ اور مڈٹرم پلان ہے۔ ایک سال میں پہلا فیز اور تین سالوں میں سارے فیز میں کام مکمل ہوجائے گا۔

تحریک انصاف کا باغ میں بڑا پاورشو، راجہ عبدالقدیرکی وطن واپسی نے مخالفین کی نیندیں اڑی لیں

0
Raja Qadeer khan rally

باغ: تحریک انصاف کے بانی رہنما راجہ عبدالقدیر کے اعزاز میں تاریخی استقبالی ریلی کے بعد تحریک انصاف باغ میں مقابلے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق راجہ عبدالقدیر کی کینیڈا سے وطن واپسی پراستقبالی ریلی نے باغ کی سیاست کا رخ موڑ دیا ہے،تیرہ گھنٹے جاری رہنے والی اس ریلی میں سیکڑوں گاڑیوں نے شرکت کی۔ ارجہ سے بیس بگلہ تک جگہ جگہ والہانہ استقبال نے باغ کا سیاسی منظر نامہ تبدیل کردیا ہے، ریلی کے بعد باغ میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

باغ کے سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ریلی ایک بڑا پاور شو ہے جس نے باغ کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ راجہ محمد سبیل خان مرحوم کے شو کے بعد راجہ عبدالقدیر خان باغ میں سب سے بڑی سیاسی سرگرمی دیکھانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

باغ کے عوام نے بہت عرصے کے بعد کسی سیاسی رہنما کا اس طرح والہانہ استقبال کیا ہے، بارش کے باوجود کارکنوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا، سیاسی تحزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریلی کے بعد تحریک انصاف باغ میں مقابلے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ وسطی باغ میں تحریک انصاف کی پوزیشن پہلے ہی مظبوط ہےجبکہ اب شرقی اور غربی باغ میں بھی تحریک انصاف کی پوزیشن مستحکم ہونے لگی۔

اس موقع پر جلسے سے خطاب میں تحریک انصاف کے رہنماوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پارٹی جس کو ٹکٹ دے گی وہ اس کی بھرپور حمایت کریں گے۔ باغ میں بہت سی اہم شخصیات دوسری سیاسی پارٹیوں کو خیرباد کہہ کرتحریک انصاف کا رخ کررہی ہیں جس کے بعد تحریک انصاف کی پوزیشن مزید مظبوط ہوگی۔ وسطی کیساتھ ساتھ اب شرقی اورغربی باغ میں بھی تحریک انصاف کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے الیکشن سے ایک سال قبل راجہ عبدالقدیر کی کامیاب ریلی نے باغ میں تحریک انصاف میں نئی روح پھونک دی ہے، دوسری جماعتیں اور بڑے امیدوار بھی تسلیم کررہے ہیں کہ راجہ عبدالقدیر بڑا پاور شو کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، جس کا اثراب پوری باغ کی سیاست پر ہوگا۔ تحریک انصاف نے اگر اسی طرح سرگرمیاں جاری رکھیں تو تینوں بڑے امیدواروں کی نشستیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں

Peace and stability in South Asia cannot be achieved without resolving Kashmir Dispute. Adv Babar Qadri

0
Adv Babar Qadri

Srinagar/Islamabad (KNN): Advocate Babar Qadri has said that it is in the broader interest of the India, Pakistan, China and all the countries of the region to resolve their disputes as soon as possible to pave the way for powerful, unified and economically sound South Asia.

While addressing to an online Webinar organized by The Blog Times in collaboration with International Human Rights Observers (IHRO), Institute of Peace & Development (INSPAD) and Kashmir News Network (KNN) the President of JK People’s Justice Party (Srinagar) introduced that he is hailing from downtown Srinagar which is considered as the heart of Srinagar city and consequently the heart of political dispute of Jammu and Kashmir.

He said that he started his political activism in 2005 when he laid the foundation of Kashmir university students union and thereafter, in consequence of his political career and stand, he faced four life attacks. He shared that he stood by all the odds because of his political schooling which he imbibed from his father who remained underground along with his family from 1992 till 2000. As such only few can imagine the agony and pain which he and his family have undergone through.

While talking about his visits to Pakistan, he said that he has the honor to be in Pakistan four times since 2012. Moreover, he can’t forget the precious memories of his acquaintance with Sardar Khalid Ibrahim Marhoom who introduced him to new insights in politics and he consider himself quite fortunate in a sense that was was able to interact with the Indian intelligentsia and bureaucratic establishment wherein he found the affection and love of great intellectuals like Mani Shankar Ayyer, kapil kak , O.P.shah , Kunan Gopinathan and many others.

The Adv. said that he is thankful to his comrades in Jammu Kashmir like that of Babu singh , GN shaheen sahib , Parvaiz Shah , Abid Bukhari and Abdul Rashid Laway and others who are really the people working for the cause.

The fact of the matter is this and it is not an exaggeration that the road of south Asian development and betterment passes through Jammu and Kashmir.

After going through the aforementioned circumstances which include the underground period of his family, physical and psychological torture faced by his father and other dear ones he shared following points in regards to the webinar on “Kashmir Conflict”.

A. The Jammu and Kashmir dispute is an outcome of the partition of united India that happened because of communal intolerance and the seeds of which were sown by the Britishers when the Morley Minto proposed the separate electorate and the so-called secular congress kept mum which looked at it as an opportunity with majoritarian mind set for strengthening the majority vote bank.

B. The division of India was followed by the division of Jammu and Kashmir, unfortunately dividing the state and its people on fabricated lines.

C. The dispute of Jammu and Kashmir is fundamentally trilateral in nature having the people of Jammu and Kashmir as the primary party to this dispute but till date India and Pakistan has treated and pursued this dispute through ultra-nationalistic, unilateral or bilateral methodology that has failed till date.

D. The dispute of Jammu and Kashmir has entered into an entirely new political realm in the post covid world. In this new world, the world in general and the south East Asian region in particular has been forced by the prevailing circumstances to relook at the new challenges and opportunities.

E. As far challenges are concerned, poverty, hunger, illiteracy and extremely poor healthcare infrastructure have exposed the vulnerabilities of the poor nations that have created a sense of insecurity, helplessness and deprivation.

F. the above situation is further complicated by the shockwaves of nuclear insecurity whose epicenter lies in the very dispute of Jammu and Kashmir and whose impact would be felt across the continents if god forbid things get out of control.

G. under current circumstances it seems quite obvious that the dispute of Jammu and Kashmir is causing realignment of the countries into rival blocs. The current political and military showdown between china and India across the LAC has the potential to engulf whole of the South Asia as it seems impossible to restrict the war within the boundaries of two countries once it gets started. Moreover, let us not forget the potential of Pakistani, Nepalese, Bangladeshi , Bhutanese ,Iranian ,Sri Lankan and Afghani alignment with China therefore creating a hostile neighborhood for India which is in no way good for the overall peace and security of the south Asia. Same is the case with Pakistan which has become economically vulnerable following its rift with Saudi Arabia over the Kashmir dispute. What a misery! When these countries should have been thinking to invest more and more in basic health infrastructure to save the precious lives of their fellow countrymen they are busy in purchasing the war machinery worth billions of dollars in the form of Rafale jets and other military equipment.

After discussing the challenges in the post covid world, he said that he would like to foreground the solution part of the dispute as precisely as possible:

The South Asian people have an opportunity to think big after facing a monster in the form of Covid which is broader integration of the South Asian Region on European Union model by taking into consideration the security and economic needs of the participant countries. In this regard the honorable and voluntary participation of India in CPEC project could pave the way for emergence of the South Asia as global power centre for coming centuries.

Babar Qadri said that, at this point of time, it is in the broader interest of the India, Pakistan, China and all the countries of the region to resolve their disputes as soon as possible to pave the way for powerful, unified and economically sound South Asia. There is no alternative to this option. Beyond the region foreign powers could never become a part of the solution to The South Asian disputes. Till dispute like Kashmir is there, the South Asia is never going to emerge as unified political and economic power. The fact of the matter is this and it is not an exaggeration that the road of south Asian development and betterment passes through Jammu and Kashmir.

1 YEAR OF LOCK-DOWN, 73 YEARS OF OPPRESSION

1
Kashmir atrocities

Since the independence of the subcontinent, the main dispute between the two nuclear-powered countries is Kashmir. The issue of Kashmir has not solved even after 73 years. The situation in Kashmir is becoming worse day by day. Last year, on August 5, 2019, article 370 was revoked by the Indian Prime Minister.

This article was very important for the people of Kashmir as it had given a status of autonomy to their state. Jammu and Kashmir Reorganization Act was also introduced by the Indian government in 2019. According to this bill, the region of Jammu and Kashmir should be under the direct control of the Indian government. After the revocation of Article 370, a strict lockdown was started in the region.

Even foreign journalists are not allowed to report in the region since then. Pakistan took this issue into the United Nations Security Council. The issue of Kashmir was last discussed before 50 years in UNSC. The devastating condition of Kashmir was discussed in this meeting. However, this achievement is not enough for Pakistan. This issue must be recognized by every platform and every organization.

The only permanent solution for this issue is in the discussion. War can only lead to more destruction as both of the countries are nuclear-powered. The government should take this issue to every possible platform which can provide justice. The cruelty of the Indian government should be highlighted by foreign journalists. Many Muslims lost their lives while protesting against the Indian Government.

At the individual level, we cannot curse the government rather we should participate in this struggle. We should raise the voice for our Muslim brothers. Even if we cannot do this we should pray for them. Every Muslim present in any part of the world should play his part in rescuing the Kashmiris from the cruel Indian Government.

Revoking an article can’t

Rescind the freedom

Shedding the blood can’t

Squelch the spirits

Imprisoning the bodies can’t

Immure the souls

Catastrophic conditions can’t

Curtail the power

Concealing the stories can’t

Crush the voice

Blinding the eyes can’t

Break the dreams

Dreams and power

Souls and spirits

Will make Kashmir an Islamic state

Will make Kashmir an independent state

Will make Kashmir a peaceful territory

Will make Kashmir a free polity

Will make Kashmir Pakistan

Will make Kashmir Pakistan

Areesha Khan is a young writer, student, and social activist. She blogs @ Areesha Khan Blog.

ٹویٹر پرایکٹیو پی ٹی آئی کےکارکنوں کی قسمت جاگ اٹھی، 6 کارکناں کو اعلی عہدوں پر لگا دیا گیا

0

اسلام آباد: حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا کے چھ اراکین کی وزارتِ اطلاعات میں تعیناتی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کا نوٹیفکیشن سوموار کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کیا۔

اس نوٹیفکیشن کے مطابق ایک افسر کو MP2 سکیل جب کہ باقی پانچ کو MP3 سکیل کی ملازمت پر رکھا گیا ہے۔ MP2 کا ملازم گریڈ 21 جب کہ MP3 کا ملازم گریڈ 20 کی سطح پر تعینات ہوگا۔

تحریک انصاف کے عمران حیدر غزالی کو MP2 سکیل پر رکھا گیا ہے جب کہ شہباز خان، محمد مزمل حسن، عثمان بن ظہیر، نعیم احمد یاسین اور سیدہ دھنک ہاشمی کو MP3 سکیل پر رکھا گیا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق یہ چھ لوگ اس سے قبل پی ٹی آئی میڈیا سیل کے اراکین تھے اور ان کو بھاری تنخواہوں پر بغیر مقابلے کے امتحان کے بڑی اسامیوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کو 2013 اور 2018 کے عام انتخابات میں بھی جماعت کی سوشل میڈیا مہم چلانے کا تجربہ حاصل ہے۔

مائیکل جیکسن کو اللہ سے جنگ کی کیا سزا ملی؟ انتہائی معلوماتی اور ایمان افروز تحریر

0
Michael Jackson

مائیکل جیکسن ایک ایسا انسان جو نظام فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا، اسے چار چیزوں سے سخت نفرت تھی,
اسے اپنے سیاہ رنگ سے نفرت تھی, وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا۔

اسے گمنامی سے نفرت تھی, وہ دنیا کا مشہور ترین شخص بننا چاہتا تھا۔ ‏اسے اپنے ماضی سے نفرت تھی, وہ اپنے ماضی کو اپنے آپ سے کھرچ کر الگ کردینا چاہتا تھا۔
اسے عام لوگوں کی طرح ستر, اسی برس میں مر جانے سے بھی نفرت تھی, وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔
وہ ایک ایسا گلوکار بننا چاہتا تھا جو ایک ‏سو پچاس سال کی عمر میں لاکھوں لوگوں کے سامنے ڈانس کرے, اپنا آخری گانا گائے, پچیس سال کی گرل فرینڈ کے ماتھے پر بوسہ دے اور کروڑوں مداحین کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہو جائے۔
مائیکل جیکسن کی آنے والی زندگی ان چار خواہشوں کی تکمیل میں بسر ہوئی۔

‏اس نے 1982ء میں اپنا دوسرا البم ’’تھرلر‘‘ لانچ کیا, یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ ایک ماہ میں اس کی ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں اور یہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن گیا تھا۔ مائیکل جیکسن اب دنیا کا مشہور ترین گلوکار تھا، اس نے گمنامی کو شکست دے ‏دی تھی۔
مائیکل نے اس کے بعد اپنی سیاہ جلد کو شکست دینے کا فیصلہ کیا اور پلاسٹک سرجری شروع کرا دیی، امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں، یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت، جلد، نقوش اور حرکات و سکنات ‏بدل گئیں۔
سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اورنسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔ یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی۔
اس کے بعد ماضی کی باری آئی، مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کر ‏دیا، اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے، اس نے کرائے پر گورے ماں باپ حاصل کر لئے اور تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا، وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔
‏اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔ ڈیبی رو کے بطن سے اس ‏کی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔

اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوگئی، اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی۔
لہٰذا اب اس کی آخری خواہش کی باری تھی۔ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئے ‏دلچسپ حرکتیں کرتاتھا، مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا، وہ جراثیم، وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا۔ وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ ‏ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔

یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے، اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا، اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں، گردوں، آنکھوں، دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا۔

‏یہ وہ ڈونر تھے، جن کے تمام اخراجات مائیکل اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے، چنانچہ اسے یقین تھا کہ وہ ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہے گا۔

لیکن پھر 25 جون کی رات آئی، اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی، اس کے ‏ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئر ڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا، یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو ہسپتال لے گئے۔
وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، جو ننگے پاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا، جو کسی سے ہاتھ ‏ملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا، جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25 برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا ہو۔ وہ شخص صرف 50 سال کی عمر میں اور صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔

‏اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی۔ مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی، یہ گوگل کی تاریخ کا ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25 منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔
‏مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا کہ بہت زیادہ احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا، وہ سر سے گنجا ہو چکا تھا، اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، اس کے کولہے، کندھے، پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔

‏وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا، چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز، یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اُس جہاں سے چلا گیا اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔ ‏مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے، انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا فرعون

وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔ ‏وہ موت کو شکست نہیں دے سکتا۔
لیکن حیرت ہے کہ ہم مائیکل جیکسن کے انجام کے بعد بھی خود کو فولاد کا انسان سمجھ رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہم موت کو دھوکہ دے دیں گے، ہم ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہیں گے۔
اللہ کریم ھمیں عمل کی توفیق بخشے اور آپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثمہ آمین

خان صاحب قدیر کو سکون مل گیا۔

1
Shahzad Ali Akbar

وہ اس کالم کے شائع ہونے تک قبر میں ہوگا۔
آپ نے فرمایا تھا سکون تو قبر میں ہے۔
خان صاحب
آپکو زلفی بخاری مبارک ہو۔۔۔
آپکو انیل مسرت مبارک ہو۔۔۔
آپکو ہر وہ شخص مبارک ہو جس کے پاس ملک کے اندر یا باھر اربوں کے اثاثے ہیں
آپ کے دوست امیر ہیں
اللہ نے آپکو بھی بہت کچھ دے رکھا ہے
آپکے سلیمان اور قاسم کا نانا بھی دنیا کا امیرترین شخص گولڈسمتھ ہے۔۔۔
خان صاحب۔۔قدیر گھبرایا نہیں دلبرداشتہ ہوگیا تھا۔
تین معصوم بچے تھے۔۔۔
ان کوروٹی دینا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔
بچہ تو بچہ ہوتا ہے ناں ۔۔۔۔خان صاحب
وہ ضد کردیتا ہے
اس کو بھوک لگتی ہے
اس کی معصوم چھوٹی چھوٹی خواہشات ہوتی ہیں۔
اگر باپ پوری نہ کرسکے تو وہ بہت تڑپتا ہے۔۔۔
خان صاحب
یہ بات زلفی بخاری،فیصل واوڈا یا عثمان ڈار آپکو نہیں بتا سکتے۔۔۔ان کو کیا پتہ کہ غربت کیا ہوتی ہے۔بے بسی کیا ہوتی ہے۔۔۔
خان صاحب
قدیر تو کنفرم مرگیا ہے
ایک بچہ بھی۔۔
لیکن دوبچے ابھی تشویشناک حالت میں ہیں۔
خان صاحب میں خوفزدہ ہوں کہ کیا دعا کروں۔
کیونکہ بقول آپ کے سکون تو قبر میں ہے۔۔۔
اگر وہ زندہ بچ گئے
تو ان کا کیا ہوگا۔۔۔ان کو سکون کیسے ملے گا۔
اب تو قدیر ان کا باپ بھی نہیں رھا۔۔۔
وہ کیا کریں گے۔۔۔
ابھی تو ان کو اتنی سمجھ بھی نہیں کہ وہ آپ کی بات سن سکیں اور سمجھ سکیں کہ انھیں گھبرانا نہیں ہے۔
خان صاحب۔۔۔
ایک کام ہو سکتا ہے
اگر ادھر کوئی ٹائیگر فورس کا جوان ہے
تو اسے کہیں وہ ان بچوں کو زمرد خان کے حوالے کردیں۔سوئٹ ہومز میں شاید ان کو وہ روٹی مل جائے جو ان کا باپ ان کو نہیں دے سکا۔۔۔
خان صاحب۔۔۔
میں آپ پہ تنقید نہیں کررھا
میرا منہ اور مسور کی دال
میرے منہ میں خاک۔۔۔میرے جیسے آپکی جوتیاں پالش کرتے ہیں۔۔۔
میں تو خود بہت غریب گھر کا ایک فرد ہوں۔۔
جس کی آمدن سے کئی چھوٹے چھوٹے خواب پورے ہوتے ہیں۔
خان صاحب۔۔یقین جانیں آپ پہ تنقید نہیں کررھا۔
آپکو بتا رھا ہوں کہ اب ہم سب غریب گھبرا نہیں رھے۔۔۔بلکہ سکون کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔۔اور جب سب سکون کی تلاش میں نکل پڑے اور قبرستان میں جا آباد ہوئے
تو کل کلاں جب آپ اقتدار میں نہ ہوئے
اور آپکو محسوس ہوا کہ اس وقت کی حکومت مہنگائی کررھی ہے۔ یا کرپشن کررھی ہے۔۔اور آپ اپوزیشن میں ہوئے اور آپ نے ڈی چوک پہ آنے کی کال دے دی۔
تو
ڈی چوک پہ میلہ کون لگائے گا۔۔۔وہ سب تو سکون کی تلاش میں قبروں میں ہوں گے جنھوں نے پچھلا میلہ لگایا تھا۔۔۔جب آپ اپیل پہ اپیل کررھے تھے۔۔نواز شریف ساری گیندیں پیڈ پہ کھیل رھا تھا۔لیکن ایمپائر نے پھر بھی آوٹ نہ دیا۔۔وہ تو بارش ہوگئی اور ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے تحت نواز شریف میچ ہارگیا۔۔۔۔لیکن آئندہ کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔
ہاں ایک امید ایک آس ہے
شاید
شہزاد اکبر،شھباز گل ،ثانیہ نشتر،ظفر مرزا،معید یوسف،حفیظ شیخ آپ کے لئے وہاں لوگ اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائیں کہ سب کی روٹس عوام میں ہیں۔۔۔۔یقین جانیں خان صاحب یہ نیا پاکستان ہے۔پرانے پاکستان میں دن کو تارے نظر نہیں آتے تھے۔لیکن نئے پاکستان میں دن کو بھی تارے نظر آگئے ہیں۔یہ ہے تبدیلی۔یہ ہے وژن۔
خان صاحب میرا شعر و شاعری سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن
نہ جانے کیوں یہ شعر بار بار میری زبان پہ آتا ہے
تیرے عشق نے سب بل دئیے نکال
مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی۔۔۔
آپ نے ہم سب غریبوں کو سیدھا کردیا ہے۔۔۔نہیں تو ہم کبھے ہو جاتے۔۔اور بھلا کبھے کی بھی کوئی زندگی ہوتی ہے۔۔۔
یقین جانیں خان صاحب۔۔۔
سب غریب سیدھے ہوگئے ہیں۔۔۔
اور گا رھے ہیں
روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے۔۔۔
غریب ملازم،دیہاڑی دار،مزدور سب کی ریڑھیوں پہ یہی ترانہ چل رھا ہے۔۔۔۔
خان صاحب۔۔۔آپ نے عوام دوست ٹیم کا انتخاب کیا جس پہ آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔عبدالرزاق داود جیسے عوام دوست،حفیظ شیخ جیسے محب وطن لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔یقیناً آپ کامیاب ہوں گے۔۔یقین جانیں جب ہم گھبرانے لگتے ہیں تو مراد سعید کی تقریر سن لیتے ہیں۔۔
جیسے روزے میں پیاس لگے تو منہ پہ گیلا تولیا مار لیتے ہیں۔۔۔یوں واقعی تھوڑا سکون مل جاتا ہے۔۔
خان صاحب مائنڈ نہ کیجئے گا۔۔
میں تو آپ کا فین ہوں۔
میں تو آپ کے گیت گاتا ہوں۔۔
وہ ناروال والا قدیر بدبخت تھا۔۔حرام موت مرگیا۔
زہر بھی تو خریدا اس نے۔۔۔اس سے بہتر تھا آٹا خرید لیتا۔۔۔چھوڑیں اس کو۔۔۔۔
آپ پانچ سال پورے کریں۔۔بقول آپ کے
مشکل وقت ختم ہوگیا ہے۔۔۔
قدیر کے بچے بچ گئے تو اچھا وقت دیکھ لیں گے۔
نہ بچے تو ان کو بھی سکون مل جائے گا۔۔۔
خان صاحب۔۔۔
آپ گریٹ ہیں۔
آپ کی حکومت مثالی ہے۔۔۔
آپ کسی کو این آر او نہیں دے رھے۔۔۔
آپ چھا گئے ہیں۔۔
یقین جانیں آپ کے وزراء،وزرائے اعلیٰ ،گورنرز سب کی کیا بات ہے۔۔۔
کوئی وسیم اکرم پلس ہے
کوئی وقار یونس پلس ہے
کوئی انضمام پلس ہے۔۔۔
کوئی انتخاب عالم پلس ہے۔۔۔
آپ نے تو کمال کردیا۔۔۔
اور پتہ نہیں ابھی کتنے کمال اور کریں گے۔۔۔آپ کے پاس تو وہ ڈاکٹر ہیں انھیں بتاو کہ کان میں درد ہے تو وہ فوراً کان ہی کاٹ دیتے ہیں۔ان کے بقول نہ کان ہوگا نہ اس میں درد ہوگا۔۔۔ایسی ٹیم پہلے کسی کے پاس نہ تھی۔۔یہ نئے پاکستان میں ہے۔۔۔بس نئے پاکستان میں۔۔
چھوڑیں خان صاحب۔۔۔
فضول باتیں ہیں۔۔
آپ آگے بڑھتے چلے جائیں۔۔
بزدل قدیر اسی طرح مرتے جائیں
تو غربت خود بخود ختم ہو جائے گی۔
غربت غریبوں کی پیداوار ہے۔۔اور غریب بددعائے لوگ ہیں۔خوش قسمت ترین لوگ آپ کے دائیں بائیں ہیں۔۔۔۔اللہ ان کو خوش رکھے
آپ کو آباد رکھے۔۔۔
رھے قدیر۔۔۔تو ان کا اللہ حافظ
اس کے بچوں کا اللہ حافظ۔ ۔۔۔
سوری خان صاحب۔۔۔۔
ہم غریب لوگ آپکو بہت تنگ کرتے ہیں۔۔۔
سوری خان صاحب۔۔۔ونس اگین سوری۔۔۔

All the political parties must participate in black day protest against India. PM AJK

0
PM AJK Raja Farooq Haider Khan

Muzaffarabad: The Prime Minister of AJ&K Raja Muhammad Farooq Haider Khan has appealed to all political parties of Pakistan,AJK and the leaders of APHC ( All Parties Hurriyat Conference) Azad Kashmir chapter to actively participate in Black Day protest processions on 5th of August to condemn Indian illegal attempt to change the special status of Occupied Kashmir.

In a letter written to the heads of all political parties the Prime Minister said that Indian government through constitutional aggression has forcefully changed the special status of occupied Kashmir.

The Prime Minister has also made a fervent appeal to the Prime Minister of Pakistan Imran Khan to address AJK legislative Assembly on 5th of august to condemn the Indian move.

He said Indian has clearly violated the UN resolutions on Kashmir as well has set aside the Shmila agreement through abrogating the special status of IOK.

Read More: Indian Army is committing war crimes in Kashmir: PM AJK

He said that India is trying to change the Muslim majority into minority through settling non-state subjects in Occupied Kashmir, for this nefarious purpose India has issued over25 thousand domicile to Indian Hindus.

He said India has intensified the reign terror in occupied Kashmir and over 800 thousands Indian troops are engaged to suppress the popular movement of Kashmiri people with guns and bullets.

He said that In spite of unprecedented atrocities and cruelties, the spirit of Kashmiri people is growing day by day and they are determined to achieve their destination.

HOT NEWS

CLIMATE CHANGE