خان صاحب قدیر کو سکون مل گیا۔

1
35

وہ اس کالم کے شائع ہونے تک قبر میں ہوگا۔
آپ نے فرمایا تھا سکون تو قبر میں ہے۔
خان صاحب
آپکو زلفی بخاری مبارک ہو۔۔۔
آپکو انیل مسرت مبارک ہو۔۔۔
آپکو ہر وہ شخص مبارک ہو جس کے پاس ملک کے اندر یا باھر اربوں کے اثاثے ہیں
آپ کے دوست امیر ہیں
اللہ نے آپکو بھی بہت کچھ دے رکھا ہے
آپکے سلیمان اور قاسم کا نانا بھی دنیا کا امیرترین شخص گولڈسمتھ ہے۔۔۔
خان صاحب۔۔قدیر گھبرایا نہیں دلبرداشتہ ہوگیا تھا۔
تین معصوم بچے تھے۔۔۔
ان کوروٹی دینا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔
بچہ تو بچہ ہوتا ہے ناں ۔۔۔۔خان صاحب
وہ ضد کردیتا ہے
اس کو بھوک لگتی ہے
اس کی معصوم چھوٹی چھوٹی خواہشات ہوتی ہیں۔
اگر باپ پوری نہ کرسکے تو وہ بہت تڑپتا ہے۔۔۔
خان صاحب
یہ بات زلفی بخاری،فیصل واوڈا یا عثمان ڈار آپکو نہیں بتا سکتے۔۔۔ان کو کیا پتہ کہ غربت کیا ہوتی ہے۔بے بسی کیا ہوتی ہے۔۔۔
خان صاحب
قدیر تو کنفرم مرگیا ہے
ایک بچہ بھی۔۔
لیکن دوبچے ابھی تشویشناک حالت میں ہیں۔
خان صاحب میں خوفزدہ ہوں کہ کیا دعا کروں۔
کیونکہ بقول آپ کے سکون تو قبر میں ہے۔۔۔
اگر وہ زندہ بچ گئے
تو ان کا کیا ہوگا۔۔۔ان کو سکون کیسے ملے گا۔
اب تو قدیر ان کا باپ بھی نہیں رھا۔۔۔
وہ کیا کریں گے۔۔۔
ابھی تو ان کو اتنی سمجھ بھی نہیں کہ وہ آپ کی بات سن سکیں اور سمجھ سکیں کہ انھیں گھبرانا نہیں ہے۔
خان صاحب۔۔۔
ایک کام ہو سکتا ہے
اگر ادھر کوئی ٹائیگر فورس کا جوان ہے
تو اسے کہیں وہ ان بچوں کو زمرد خان کے حوالے کردیں۔سوئٹ ہومز میں شاید ان کو وہ روٹی مل جائے جو ان کا باپ ان کو نہیں دے سکا۔۔۔
خان صاحب۔۔۔
میں آپ پہ تنقید نہیں کررھا
میرا منہ اور مسور کی دال
میرے منہ میں خاک۔۔۔میرے جیسے آپکی جوتیاں پالش کرتے ہیں۔۔۔
میں تو خود بہت غریب گھر کا ایک فرد ہوں۔۔
جس کی آمدن سے کئی چھوٹے چھوٹے خواب پورے ہوتے ہیں۔
خان صاحب۔۔یقین جانیں آپ پہ تنقید نہیں کررھا۔
آپکو بتا رھا ہوں کہ اب ہم سب غریب گھبرا نہیں رھے۔۔۔بلکہ سکون کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔۔اور جب سب سکون کی تلاش میں نکل پڑے اور قبرستان میں جا آباد ہوئے
تو کل کلاں جب آپ اقتدار میں نہ ہوئے
اور آپکو محسوس ہوا کہ اس وقت کی حکومت مہنگائی کررھی ہے۔ یا کرپشن کررھی ہے۔۔اور آپ اپوزیشن میں ہوئے اور آپ نے ڈی چوک پہ آنے کی کال دے دی۔
تو
ڈی چوک پہ میلہ کون لگائے گا۔۔۔وہ سب تو سکون کی تلاش میں قبروں میں ہوں گے جنھوں نے پچھلا میلہ لگایا تھا۔۔۔جب آپ اپیل پہ اپیل کررھے تھے۔۔نواز شریف ساری گیندیں پیڈ پہ کھیل رھا تھا۔لیکن ایمپائر نے پھر بھی آوٹ نہ دیا۔۔وہ تو بارش ہوگئی اور ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے تحت نواز شریف میچ ہارگیا۔۔۔۔لیکن آئندہ کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔
ہاں ایک امید ایک آس ہے
شاید
شہزاد اکبر،شھباز گل ،ثانیہ نشتر،ظفر مرزا،معید یوسف،حفیظ شیخ آپ کے لئے وہاں لوگ اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائیں کہ سب کی روٹس عوام میں ہیں۔۔۔۔یقین جانیں خان صاحب یہ نیا پاکستان ہے۔پرانے پاکستان میں دن کو تارے نظر نہیں آتے تھے۔لیکن نئے پاکستان میں دن کو بھی تارے نظر آگئے ہیں۔یہ ہے تبدیلی۔یہ ہے وژن۔
خان صاحب میرا شعر و شاعری سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن
نہ جانے کیوں یہ شعر بار بار میری زبان پہ آتا ہے
تیرے عشق نے سب بل دئیے نکال
مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی۔۔۔
آپ نے ہم سب غریبوں کو سیدھا کردیا ہے۔۔۔نہیں تو ہم کبھے ہو جاتے۔۔اور بھلا کبھے کی بھی کوئی زندگی ہوتی ہے۔۔۔
یقین جانیں خان صاحب۔۔۔
سب غریب سیدھے ہوگئے ہیں۔۔۔
اور گا رھے ہیں
روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے۔۔۔
غریب ملازم،دیہاڑی دار،مزدور سب کی ریڑھیوں پہ یہی ترانہ چل رھا ہے۔۔۔۔
خان صاحب۔۔۔آپ نے عوام دوست ٹیم کا انتخاب کیا جس پہ آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔عبدالرزاق داود جیسے عوام دوست،حفیظ شیخ جیسے محب وطن لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔یقیناً آپ کامیاب ہوں گے۔۔یقین جانیں جب ہم گھبرانے لگتے ہیں تو مراد سعید کی تقریر سن لیتے ہیں۔۔
جیسے روزے میں پیاس لگے تو منہ پہ گیلا تولیا مار لیتے ہیں۔۔۔یوں واقعی تھوڑا سکون مل جاتا ہے۔۔
خان صاحب مائنڈ نہ کیجئے گا۔۔
میں تو آپ کا فین ہوں۔
میں تو آپ کے گیت گاتا ہوں۔۔
وہ ناروال والا قدیر بدبخت تھا۔۔حرام موت مرگیا۔
زہر بھی تو خریدا اس نے۔۔۔اس سے بہتر تھا آٹا خرید لیتا۔۔۔چھوڑیں اس کو۔۔۔۔
آپ پانچ سال پورے کریں۔۔بقول آپ کے
مشکل وقت ختم ہوگیا ہے۔۔۔
قدیر کے بچے بچ گئے تو اچھا وقت دیکھ لیں گے۔
نہ بچے تو ان کو بھی سکون مل جائے گا۔۔۔
خان صاحب۔۔۔
آپ گریٹ ہیں۔
آپ کی حکومت مثالی ہے۔۔۔
آپ کسی کو این آر او نہیں دے رھے۔۔۔
آپ چھا گئے ہیں۔۔
یقین جانیں آپ کے وزراء،وزرائے اعلیٰ ،گورنرز سب کی کیا بات ہے۔۔۔
کوئی وسیم اکرم پلس ہے
کوئی وقار یونس پلس ہے
کوئی انضمام پلس ہے۔۔۔
کوئی انتخاب عالم پلس ہے۔۔۔
آپ نے تو کمال کردیا۔۔۔
اور پتہ نہیں ابھی کتنے کمال اور کریں گے۔۔۔آپ کے پاس تو وہ ڈاکٹر ہیں انھیں بتاو کہ کان میں درد ہے تو وہ فوراً کان ہی کاٹ دیتے ہیں۔ان کے بقول نہ کان ہوگا نہ اس میں درد ہوگا۔۔۔ایسی ٹیم پہلے کسی کے پاس نہ تھی۔۔یہ نئے پاکستان میں ہے۔۔۔بس نئے پاکستان میں۔۔
چھوڑیں خان صاحب۔۔۔
فضول باتیں ہیں۔۔
آپ آگے بڑھتے چلے جائیں۔۔
بزدل قدیر اسی طرح مرتے جائیں
تو غربت خود بخود ختم ہو جائے گی۔
غربت غریبوں کی پیداوار ہے۔۔اور غریب بددعائے لوگ ہیں۔خوش قسمت ترین لوگ آپ کے دائیں بائیں ہیں۔۔۔۔اللہ ان کو خوش رکھے
آپ کو آباد رکھے۔۔۔
رھے قدیر۔۔۔تو ان کا اللہ حافظ
اس کے بچوں کا اللہ حافظ۔ ۔۔۔
سوری خان صاحب۔۔۔۔
ہم غریب لوگ آپکو بہت تنگ کرتے ہیں۔۔۔
سوری خان صاحب۔۔۔ونس اگین سوری۔۔۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.