حق خودارادیت کشمیر اور دنیا کی بے حسی

0
54

راجہ بابرشہزاد، دبئی

کسی بھی قوم یا معاشرے میں آزادی کی نعمت کو قابل فخر اعزازسمجھاجاتاہے اوروہاں کے رہنے والے افراد کو اپنی مرضی کے مطابق ذندگی گزارنے کا پورا پورا حق دیا جاتا ہے جس میں ان کو اظہار رائے، تہذیب و تمدن اور اپنے مذہب پرعمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے دور حاضرمیں کچھ ممالک اپنی اندھی طاقت کے نشے میں مست ہوکر کمزورممالک کواپنا محکوم بنانے اور وہاں پر بسنے والے لوگوں پرہرقسم کےظلم ڈھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں ان ممالک میں بسنے والے لوگوں کے بنیادی حقوق کو غصب کرنے اور آزادی جیسی نعمت سے محروم کرنے کے منصوبے شامل ہے۔

اس کے جواب میں وہاں کے نہتے لوگ اپنے حق خودارادیت کے لیے ان ظالم قوتوں کے سامنے مضبوط چٹان کی طرح کھڑے ہیں اوران کی کئی نسلیں اپنی آزادی اور بقاء کی جنگ لڑتے لڑتے شہادت کے رتبے پر فائز ہوکر اس دنیا فانی سے رخصت ہو چکی ہیں مگر ہر گذرتے دن کے ساتھ ان کے عزم و ہمت میں کمال پختگی آرہی ہے جس کے نتیجے میں ان کی آزادی کی تحاریک مضبوط سے مضبوط ترہوتی جارہی ہیں جسے دیکھ کر اس بات کی قوی امید کی جاسکتی ہے کہ ظلمت کی اندھیری رات کے ختم ہونے کا وقت قریب آن پہنچا ہے اور بہت جلد ایک روشن صبح کی نوید سنائی دے رہی ہے۔

اگر حق خود ارادیت کے لیے برسرپیکار اقوام کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک بات روزروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اس وقت پوری امت مسلمہ کفار کے نشانے پر ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں کی آزادی کو سلب کیا جارہا ہے اور کفار یکجا ہو کر امت مسلمہ پر ظلم کے پہاڑ توڑنے میں مصروف ہیں مگر بدقسمتی سے مسلم ممالک اپنے ذاتی مفاد کی خاطر نہ صرف خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں بلکہ ایسے غیرمسلم ممالک سے تعلق استوار کرنے کے لیے آگے پیچھے لائن لگا کر اپنی باری کا انتظار کرتے نظرآرہے ہیں جو خود کو امت مسلمہ کا ٹھیکیدار کہلانے کے دعویداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کی بے حسی کی وجہ سے آئے روز اقوام متحدہ میں قرادادیں تو پاس ہوتی ہے لیکن آج تک ان پر عملدرآمد نہیں کرایا جا سکا۔ کشمیراور فلسطین کے مسلمان آج تک اپنی آزادی کے لیے کفار سے نبردآزماء ہے جن پر آئے دن گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

اکثرمسلم ممالک مزمتی بیانات کی حد تک ان مظلوموں کا ساتھ دیتے نظرآتے ہیں جس سے قابض ممالک کو ان مظلوموں پر مزید ظلم کرنے کا موقع ملتا ہے جس کی ذندہ مثال آج سے دو سال قبل ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر جس پر اس نے پچھلے 75 سال سے زائدعرصے سے غاصبانہ قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے کی نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات کو یکطرفہ اقدام کے ذریعے ختم کر دیااور مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر کے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا اور دنیا سے اپنے اس ظالمانہ اقدام کو چھپانے کے لیے انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر ہر قسم کی پابندی عائد کرنے کے بعد ایک ایسے گھناؤنے منصوبے پر عملدرآمد کا پروگرام بنایا جارہا ہے جس میں مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی کر کے وہاں ہندؤں کی آبادکاری ہے جس کا مقصدمسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے پوری دنیا اور خاص طور پر حقوق کی علمبردار تنظیموں کواپنی مجرمانہ خاموشی کو توڑ کر اس ناجائز اور قابض حکومت کو اس ظالمانہ اقدام سے باز رکھنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا ہو گا اگر اس منصوبے پر عمل کیا گیا تو ایک ایسا انسانی المیہ جنم لے گا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملے گی اس کے علاوہ اقوام متحدہ کو اپنی ہی پاس کی ہوئی قرادادوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے مودی حکومت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ مظلوم کشمیریوں پر اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کر کے ان کو حق خودارادیت کا موقع دے جس میں کشمیر کے مظلوم لوگوں کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی پوری آزادی ہو

اس کے ساتھ ساتھ تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کو مزمتی بیانات، منافقانہ اور دوغلی پالیسی کو رد کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات سے ہٹ کر دنیا بھرکے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے واضح اور عملی طور پر اقدامات کرنے ہوں گے اس کے علاوہ مسلم ائمہ کے وقار کو بحال کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر مشترکہ طور پر کوششیں کرنا ہوگی

آخر میں میری حکومت پاکستان سے درخواست ہوگی کہ مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر اجاگر کرنے کے لیے سفارتی سطح پربھر پور مہم چلائی جائے جس میں پوری دنیا کے سامنے مظلوم اور بے بس کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو سامنے لا کر انسانیت دشمن مودی حکومت پر دباؤ ڈلوایا جائے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کرتے ہو ئے اپنے غاصبانہ قبضے کو فوری ختم کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے کشمیر کے لوگوں کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حق دے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.